📑 اس مضمون میں کیا ہے؟
- 🌍 تعارف: قیامت کی بڑی نشانیاں
- 📖 تاریخی پس منظر
- ⚡ ہولناک قحط سالی کے سال
- 🔥 جنگی فتوحات اور بیت المقدس کی فتح
- 😴 لوگ فتنہ دجال کو بالکل فراموش کر چکے ہوں گے
- 💥 خوفناک فتنوں کا ظہور
- 👤 تیس مزید جھوٹے دجالوں کا ظاہر ہونا
- 📖 تفاسیر کی روشنی میں
- 🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات
- 🌍 دورِ جدید کے فتنے
- 🕌 بیت المقدس پر قابض یہودی اور ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ
- 😔 مسلمانوں کی خاموشی اور بے بسی
- 🤔 غور و فکر کے پہلو
- 💎 خلاصہ اور نصیحت
🌍 تعارف: قیامت کی بڑی نشانیاں
محترم قارئین کرام! یہ بات ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس دنیا کا وجود عارضی ہے، اصل زندگی موت کے بعد شروع ہونی ہے۔ اسی طرح قیامت کا ایک دن مقرر ہے اور وہ آکر رہے گی۔
آپ ﷺ نے اپنی امت کو دونوں جہانوں کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے، چھوٹی سے چھوٹی بات کو پہلے خود عمل کرکے امت کو دکھلایا اور پھر امت کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی۔
کافی دنوں سے میں قیامت کی چھوٹی نشانیوں پر کام کر رہا تھا سوچا آج قیامت کی بڑی نشانیوں کا ذکر بھی آپ سے کروں۔ قیامت کی دس بڑی نشانیاں:
- جزیرۃ العرب میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا
- مشرق میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا
- مغرب میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا
- دجال کا ظہور
- حضرت عیسیٰ کا نزول
- یاجوج ماجوج کا خروج
- سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
- دابۃ الارض کا نکلنا
- دھویں کا نکلنا
- یمن کے شہر عدن کے آخری علاقہ سے آگ کا نکلنا
جن میں "دجال کا ظاہر ہونا" پر آج ہم بات کریں گے۔ حضرت نوح ﷺ کے بعد جتنے بھی انبیاء کرام اس دنیا میں آئے ان سب نے اپنی اپنی قوم کو فتنہ دجال سے ڈرایا اور آگاہ کیا لیکن آپ ﷺ نے اپنی امت کو واضح اور کھول کھول کر بتایا۔
کیونکہ یہ فتنہ آپ ﷺ کی امت پر ہی ظاہر ہونا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے اس فتنہ سے بہت زیادہ ڈرایا ہے کہ یہ فتنہ بہت بڑا دجل اور فریب کا فتنہ ہے۔
قیامت کی یہ نشانیاں کسی ٹوٹنے والے ہار کے موتیوں کی طرح ایک کے بعد ایک تسلسل سے واقع ہوں گی۔ جب پہلی علامت "ظہور امام مہدی" واقع ہو گی تو ایک تیزی کے ساتھ دیگر علامات بھی واقع ہونا شروع ہو جائیں گی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "علامات قیامت تار میں پروئے ہوئے موتیوں کی مانند ہیں، پس اگر تار ٹوٹ جائے تو موتی یکے بعد دیگرے تیزی سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں"۔
📖 تاریخی پس منظر
تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء کرام نے ہمیشہ اپنی قوموں کو فتنہ دجال سے ڈرایا۔ حضرت نوح ﷺ سے لے کر حضرت عیسیٰ ﷺ تک تمام انبیاء نے اپنی قوم کو اس عظیم فتنہ سے آگاہ کیا۔
لیکن آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس فتنہ سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ تفصیل سے بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں ایسی چیز سے ڈراتا ہوں جس سے کوئی نبی پہلے نہیں ڈرایا۔ وہ دجال ہے، وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی بائیں آنکھ پر موتیا ہوگا جیسے کہ ایک ابھرا ہوا انگور۔"
یہ پیشین گوئیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ دجال کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ ہمیں اس سے بچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
⚡ ہولناک قحط سالی کے سال
آپ ﷺ نے فرمایا: "دجال کی آمد سے قبل تین برس بہت سختی اور شدت کے ہوں گے، لوگ ان سالوں میں خوراک کی شدید قلت کا شکار ہوں گے۔ پہلے برس اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ایک تہائی بارش روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ایک تہائی پیداوار روک لے۔
پھر اگلے برس آسمان کو حکم ہو گا کہ وہ اپنی دو تہائی بارش روک لے اور زمین کو حکم ہو گا کہ وہ اپنی دو تہائی پیداوار روک لے۔ تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی تمام بارش روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ساری پیداوار روک لے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ آسمان سے پانی کا ایک قطرہ تک نہ گرے گا اور زمین سے کوئی نبات پیدا نہ ہوگی۔ روئے زمین پر جتنے بھی سایہ دار درخت ہوں گے تباہ و برباد ہو جائیں گے مگر جس کو اللہ چاہے گا وہ بچ جائے گا"۔
لوگوں نے سوال کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! اس صورت میں لوگوں کا ذریعہ معاش کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ کثرت سے پڑھیں گے اور یہی ذکر ان کے لیے خوراک کا کام دے گا"۔
🔥 جنگی فتوحات اور بیت المقدس کی فتح
آپ ﷺ نے فرمایا: "تم جزیرہ عرب میں جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے فتح کردے گا، پھر تم ایران پر حملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے فتح کردے گا، پھر تم روم پر حملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی فتح کر دے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی فتح کردے گا"۔
دوسرے مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "بیت المقدس کے آباد ہونے سے مدینہ کی بربادی شروع ہو جائے گی۔ مدینہ کی بربادی ہوئی تو ایک عظیم معرکہ شروع ہو جائے گا۔ وہ معرکہ شروع ہوا تو قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا اور جب قسطنطنیہ فتح ہو گیا تو پھر جلد ہی دجال کا خروج ہو گا"۔
دجال کی آمد سے قبل مسلمانوں اور روم کے عیسائیوں کے درمیان بہت سی جنگیں ہوں گی جن میں اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم عیسائیوں کے ساتھ صلح کر لوگے، پھر تم ایک لڑائی کرو گے اور رومی عیسائی تمھارے ساتھ غداری کریں گے۔ تم اس جنگ میں فتح حاصل کرو گے، مال غنیمت حاصل کرو گے اور نقصان سے محفوظ رہو گے، پھر تم میدان جنگ سے واپس لوٹو گے حتی کہ تم اور عیسائی ایک ٹیلوں والی سرسبز جگہ پر پڑاؤ ڈالو گے۔ وہاں عیسائیوں میں سے ایک شخص صلیب کو ہوا میں بلند کرکے اعلان کرے گا کہ صلیب غالب آگئی، صلیب غالب آگئی۔
اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ آگے بڑھ کر صلیب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اس بات سے عیسائی بگڑ جائیں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ بعض احادیث میں یہ بھی الفاظ ملتے ہیں کہ "اس وقت مسلمان بھی جوش میں آجائیں گے اور اپنے ہتھیار سنبھال لیں گے۔ ایک سخت لڑائی کریں گے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت سے سرخرو کریں گے"۔
😴 لوگ فتنہ دجال کو بالکل فراموش کر چکے ہوں گے
اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک کہ لوگ اس کے ذکر تک سے غافل نہ ہو جائیں اور یہاں تک کہ خطیب منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں گے"۔
(اس حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ آج ہم اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس کے ذکر سے بالکل غافل کر چکے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو ٹک ٹاک سے فرصت نہیں، اس نام نہاد نسل کو کیا پتہ کہ ہماری آنکھوں پر کون سی غفلت کی پٹی بندھی ہے۔ ہمارے نصاب تک سے یہ دور کر لی گئی ہیں تاکہ لوگ جان نہ سکیں)
💥 خوفناک فتنوں کا ظہور
نبی کریم ﷺ نے ایک طویل حدیث میں ارشاد فرمایا: "پھر خوشحالی کا فتنہ ظاہر ہوگا جو ایک ایسے شخص کے قدموں سے اٹھے گا جو میرے اہل بیت سے ہوگا۔ وہ خود کو میرے خاندان میں خیال کرے گا مگر درحقیقت اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
کیونکہ میرے دوست تو فقط متقی ہیں۔ پھر لوگ ایک ایسے شخص پر متفق ہوجائیں گے جو ایسے ہوگا جیسے پسلی پر سرین (لوگ ایک ایسے شخص کو اپنا بادشاہ بنانے پر متفق ہو جائیں گے جو اپنی جہالت کے باعث بادشاہت کے لیے کسی صورت موزوں نہ ہوگا اور نہ وہ امور ومعاملات پر قابو پانے کی اہلیت رکھتا ہوگا، جس طرح کہ ایک پسلی بڑی بھاری سرین کا وزن برداشت نہیں کر سکتی)۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کے بعد ایک بہت ہولناک فتنہ شروع ہوگا، اس فتنے کا اثر اور تکلیف میری امت کے ہر شخص کو پہنچے گا، کوئی بھی اس سے محفوظ نہ رہے گا۔ جب بھی کہا جائے گا کہ یہ فتنہ ختم ہوگیا ہے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر جائے گا۔ آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا حتی کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک ایمان والے جو نفاق سے یکسر پاک ہوں گے اور دوسرے نفاق والے جو ایمان سے یکسر خالی ہوں گے۔
جب یہ حالات ہوجائیں تو اس وقت دجال کا انتظار کرنا، اسی روز آجائے یا اگلے روز ظاہر ہو جائے"۔
👤 تیس مزید جھوٹے دجالوں کا ظاہر ہونا
ایک جگہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی قسم! قیامت اس دن تک ہرگز قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے ظاہر نہ ہوجائیں۔ ان میں سے آخری کانا دجال ہوگا جس کی بائیں آنکھ ممسوح (مٹی ہوئی) ہوگی"۔
📖 تفاسیر کی روشنی میں
مفسرین کرام نے دجال کے فتنہ کی مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:
"دجال کا فتنہ قیامت سے پہلے کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہ اتنا بڑا فتنہ ہوگا کہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔"
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"دجال کی آمد سے پہلے کے واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے ایمان کی آزمائش کرتا ہے۔ یہ آزمائش اتنی سخت ہوگی کہ زیادہ تر لوگ اس میں ناکام ہو جائیں گے۔"
علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے "روح المعانی" میں فرمایا:
"دجال سے پہلے کے قحط، جنگیں اور فتنے اس بات کی علامت ہیں کہ انسانیت اپنے رب سے دور ہو چکی ہے اور اسے ایک سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔"
🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دجال کے فتنہ سے بچنے کے لیے قرآن و سنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دجال سے بچنے کا بہترین طریقہ سورۃ الکہف کی پہلی اور آخری دس آیات کا حفظ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دجال کے فتنہ سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ دجال سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو دین کی تعلیمات کو سمجھنا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دجال کے فتنہ سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے اور اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
🌍 دورِ جدید کے فتنے
آج کے دور میں ہم بے شمار فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو دجال کی آمد کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
- سوشل میڈیا کا فتنہ: سوشل میڈیا نے لوگوں کو حقیقت سے دور کر دیا ہے۔ لوگ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈا کا شکار ہو رہے ہیں۔
- مادہ پرستی کا فتنہ: لوگ مادہ پرستی میں اس قدر مگن ہیں کہ انہیں اپنے دین کی فکر نہیں رہی۔
- اخلاقی بگاڑ کا فتنہ: معاشرے میں اخلاقی بگاڑ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ حلال و حرام کی تمیز کھو چکے ہیں۔
- مذہبی انتہا پسندی کا فتنہ: مذہبی انتہا پسندی نے اسلام کا چہرہ بگاڑ دیا ہے اور لوگ دین کو غلط سمجھنے لگے ہیں۔
یہ تمام فتنے دجال کی آمد کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ہمیں ان فتنوں سے بچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
🕌 بیت المقدس پر قابض یہودی اور ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ
آج کے دور میں بیت المقدس پر یہودیوں کا قبضہ مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وہی بیت المقدس ہے جس کی فتح کی پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیت المقدس کی فتح کے بعد مدینہ کی بربادی شروع ہو جائے گی اور پھر ایک عظیم معرکہ شروع ہو گا جس میں مسلمان فتح یاب ہوں گے۔"
آج ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو حالات ہیں، وہ اس جنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ہمیں ان حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے۔
😔 مسلمانوں کی خاموشی اور بے بسی
آج مسلم امہ بے بسی اور خاموشی کا شکار ہے۔ فلسطین، کشمیر، یمن، شام اور دیگر مسلم ممالک میں ظلم ہو رہا ہے مگر مسلم حکمران خاموش ہیں۔
یہ خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی ختم ہو چکی ہے۔ جبکہ اسلام میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے ظلم کرنے والوں کے حوالے کرتا ہے۔" (صحیح بخاری)
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔ ورنہ یہ خاموشی دجال کی آمد کی راہ ہموار کرے گی۔
🤔 غور و فکر کے پہلو
1. کیا ہم دجال کے فتنہ کے لیے تیار ہیں؟
ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور دجال کے فتنہ سے بچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
2. کیا ہم اپنے بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں؟
ہمیں اپنے مسلم بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے جو ظلم کا شکار ہیں۔
3. کیا ہم اپنے دین پر عمل کر رہے ہیں؟
ہمیں اپنے دین پر عمل کرنا چاہیے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا چاہیے۔
💎 خلاصہ اور نصیحت
یہ سب وہ واقعات ہیں جو دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے روئے زمین پر واقع ہو چکی ہوں گی، اس میں کچھ شک نہیں کہ چھوٹی علامات کے ساتھ بڑی علامات بھی ظاہر ہوں گی۔ اس لیے موقع کو غنیمت جانیں اور ابھی بھی وقت ہے۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، یہ مت سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے، صرف یہ سوچیں کہ کیا آپ کا طریقہ اللہ کے نبی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہے یا نہیں۔ ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اور ہم ابھی غفلت کی نیند میں سو رہے ہیں۔ اسی غفلت کی نیند میں ہی کسی دن موت اچک لے گی اور جس کی موت واقع ہوگئی سمجھ لو اس کے لیے قیامت شروع ہو گئی۔
اللہ سے دعا ہے کہ جب تک زندہ رکھے ایمان کی حالت میں زندہ رکھے اور موت دے تو ایمان کی حالت میں۔۔۔۔آمین