🕊️

حضرت عیسیٰ کا دور حکومت کیسا ہوگا؟

قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ کا نزول، عدل و انصاف، امن و خوشحالی اور شرعی احکام کی تفاسیر، احادیث اور ائمہ اربعہ کی روشنی میں مکمل تفصیل۔

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ مشاہدات: 0 15 جولائی 2026
حضرت عیسیٰ کا دور حکومت کیسا ہوگا؟

🔹 اسلامی حکومت کا قیام

دوستو! حضرت عیسیٰ کے بارے میں اپنے سابقہ آرٹیکل میں بیان کر چکا ہوں آج میں ذکر کرنے جا رہا ہوں کہ جب حضرت عیسیٰ اپنے نزول اور دجال کو قتل کرنے کے بعد جب مومنوں کے امور و معاملات کو درست فرمالیں گے تو کچھ ضروری کام سرانجام دیں گے۔

ارشاد نبویﷺ کے مطابق: "اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے تمھارے درمیان عیسیٰ عادل حکمران بن کر نزول فرمائیں، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے (اسے کسی کافر سے قبول نہیں کریں گے)"۔

اس حدیث کے مطابق حضرت عیسیٰ کے دور حکومت کی اہم خصوصیات:

  • اسلامی حکومت کا قیام: لوگوں کو شریعت محمدی کے تابع کرنا اور منحرف مذاہب کا خاتمہ کرنا وغیرہ۔
  • اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا: یہود و نصاریٰ کی دعوت کو باطل قرار دینا اور جزیہ کو ختم کرنا۔ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو مسلم ممالک میں رہنے والے اہل کتاب سے ان کی حفاظت اور ان کے لئے پیش کی گئی سہولتوں کے عوض وصول کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی عدل وانصاف پر مبنی ٹیکس ہے۔
  • حضرت عیسیٰ جب نزول فرمائیں گے اور لوگوں کے درمیان حکومت کریں گے تو وہ اسلام کے سوا ہرگز کوئی دوسرا دین قبول نہیں کریں گے۔
عیسائی جو خود کو حضرت عیسیٰ کا پیروکار سمجھتے ہیں۔ جب حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے اور ان کے ساتھ گفتگو کریں گے تو ان کے دلوں سے یہ عقیدہ ختم ہو جائے گا کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ لوگ صحیح دین پر ایمان لے آئیں گے جیسا اللہ نے قرآن میں فرمایا "اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے"۔

🔹 عدل و سلامتی کا پھیلنا

آپ ﷺ نے فرمایا: "تمام انبیاء (باپ شریک) بھائیوں کی طرح ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں مگر سب کا دین ایک ہی ہے۔ میں عیسیٰ ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔"

وہ بلاشبہ نازل ہوں گے، جب انھیں دیکھو تو پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد اور سرخ سفیدی مائل رنگ کے ہوں گے۔ ان کے اوپر ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے معلوم ہوں گے مگر ان کا سر گیلا نہ ہوگا۔ وہ صلیب کے ٹکڑے کر دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔

اللہ تعالیٰ ان کے دور میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو ختم کر دے گا۔ ان کے عہد میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور زمین میں امن و امان کا دور دورہ ہوگا حتیٰ کہ شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ اکٹھے چریں گے۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے مگر وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ان کی حکومت چالیس برس تک رہے گی۔ پھر وہ وفات پاجائیں گے۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔

🔹 خوشحالی اور امن کا عام ہونا

  • قریش کی حکمرانی کا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جانا۔
  • بکریوں اور اونٹوں کی زکوۃ نہیں لی جائے گی۔
  • آپس کی دشمنی اور بغض اٹھا لیا جائے گا۔
  • ہر ایک ڈنگ والے جانور کا ڈنگ نکال دیا جائے گا۔
  • زمین امن وسلامتی سے اس طرح بھر جائے گی جس طرح برتن پانی سے بھرا ہوتا ہے۔
  • سب لوگ ایک ہی کلمے پر متفق ہوں گے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جائے گی۔
  • جنگ وجدل ختم ہو جائے گا۔
زمین چاندی کے ایک برتن جیسی ہو جائے گی۔ یہ اپنی پیداوار اس طرح دے گی جس طرح حضرت آدم کے عہد میں دیتی تھی حتی کہ کئی لوگ انگور کے ایک گھچے پر اکٹھے ہوں گے تو وہ ایک ہی گچھا ان سب کو شکم سیر کردے گا۔ اسی طرح بہت سے لوگ ایک انار پر اکٹھے ہوں گے تو وہ ان سب کو سیر کر دے گا۔ بیل کی قیمت بہت تھوڑی ہوگی اور گھوڑا چند درہم میں مل جائے گا۔
  • آپس کے بغض کو ختم کرنا: حسد اور کینہ دلوں سے مٹا دیا جائے گا۔
  • حضرت عیسیٰ کی آمد کے بعد زندگی گزارنے والوں کو مبارک ہو۔
  • آسمان کو بارش برسانے اور زمین کو نباتات اگانے کی عام اجازت دے دی جائے گی حتی کہ آپ کسی صاف پتھر پر بھی کوئی بیج ڈال دیں گے تو وہ بھی اگ آئے گا۔
  • آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

🔹 حضرت عیسیٰ کی شخصیت اور احکام

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے بچا لیا ہے ایک وہ جماعت ہے جو ہندوستان پر حملہ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ ہوگی"۔

حضرت عیسیٰ کا آخری زمانے میں تشریف لانا بنیادی طور پر اہل یہود کے اس دعوے کا رد کرنا بھی ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھوٹ کو واضح کر دیا ہے۔ یہود نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ وہ یہودیوں کو اور ان کے آقا دجال کو قتل کریں گے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "میں عیسیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں"۔ (ایک اندازے کے مطابق آپﷺ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان ساڑھے چھ سو سال کا وقفہ ہے۔)

حضرت عیسیٰ ہی ہیں جنھوں نے اپنی قوم کو آپﷺ کی خوشخبری دی تھی۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ "جب عیسیٰ ابن مریم تشریف لائیں گے، وہ خنزیر کو قتل کردیں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور اس وقت دعوت صرف ایک اللہ کی ہوگی۔ تب تم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انھیں سلام کہنا، میں جو بیان کروں گا وہ اس کی تصدیق کریں گے"۔
سبحان اللہ! اسی طرح ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا: "مجھے امید ہے کہ اگر مجھے لمبی عمر ملے تو میں عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کروں لیکن اگر مجھے جلد موت آجائے تو تم میں سے جو بھی عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے وہ انھیں میری طرف سے سلام کہے"۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عیسیٰ ابن مریم ضرور حج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے یا پھر ان دونوں کو ایک ساتھ ادا کریں گے۔" یعنی ان کا احرام یا تو حج تمتع کا ہوگا، یعنی پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیں گے اور حج کے لئے دوبارہ احرام باندھیں گے، یا پھر حج قران کریں گے یعنی ایک ہی احرام سے عمرہ اور حج ادا کریں گے۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے گناہ مٹا دے اور ہمیں طریقہ محمدی ﷺ کو اختیار کرنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

📖 تفاسیر کی روشنی میں حضرت عیسیٰ کا دور

تفسیر ابن کثیر

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ ان کا دور امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔"

امام ابن کثیر کے مطابق حضرت عیسیٰ کا دور حکومت عدل و انصاف، امن و خوشحالی اور شرعی احکام کے نفاذ کا دور ہوگا۔ یہ دور قیامت سے پہلے انسانیت کے لیے ایک بشارت ہوگا۔

تفسیر القرطبی

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ جب نزول فرمائیں گے تو وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔"

امام قرطبی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عیسیٰ شریعت محمدی کے مطابق حکومت کریں گے، نہ کہ کوئی نئی شریعت لے کر آئیں گے۔

تفسیر الجلالین

تفسیر جلالین میں ہے: "حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے اور صرف اسلام باقی رہے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے ایک عظیم رحمت ہوگی۔"

یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دور میں صرف اسلام ہی غالب دین ہوگا اور تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے۔

📚 قرآن و احادیث کے فرامین

قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ کا ذکر

"اور بیشک وہ (عیسیٰ) قیامت کی ایک نشانی ہے۔" (سورۃ الزخرف، آیت 61)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ کو قیامت کی نشانی قرار دیا ہے۔ ان کا نزول قیامت قریب آنے کی علامت ہے۔

"اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے۔" (سورۃ النساء، آیت 159)

اس آیت کے مطابق تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے اور وہ صحیح دین اسلام کو قبول کریں گے۔

احادیث نبوی ﷺ میں حضرت عیسیٰ کا دور

صحیح بخاری (حدیث نمبر 3448):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور عادل حکمران بن کر حکومت کریں گے۔ وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔"

یہ حدیث حضرت عیسیٰ کے دور حکومت کی اہم خصوصیات بیان کرتی ہے۔ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے اور تمام بدعات کو ختم کریں گے۔

صحیح مسلم (حدیث نمبر 2937):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عیسیٰ ابن مریم نازل نہ ہو جائیں۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔'

اس حدیث سے واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت سے پہلے ہوگا اور وہ دجال کو ہلاک کریں گے۔

🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات

امام ابو حنیفہ کا موقف

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول حق ہے۔ وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ ان کا دور عدل و انصاف کا دور ہوگا۔"

امام ابو حنیفہ حضرت عیسیٰ کے نزول کو حق قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔

امام مالک کا بیان

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ جب نازل ہوں گے تو وہ اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ تمام بدعات کو ختم کر دیں گے اور لوگوں کو صحیح راستے پر لائیں گے۔"

امام مالک نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عیسیٰ صرف اسلام کو قبول کریں گے اور تمام بدعات کو ختم کر دیں گے۔

امام شافعی کا موقف

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا دور حکومت امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔ ان کے زمانے میں زمین اپنی برکتیں نکالے گی اور لوگوں کو بہت زیادہ مال و دولت ملے گی۔"

امام شافعی نے حضرت عیسیٰ کے دور کو امن و خوشحالی کا دور قرار دیا ہے۔

امام احمد بن حنبل کا بیان

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ان کا دور چالیس سال تک رہے گا۔"

ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول حق ہے، وہ دجال کو قتل کریں گے، اور ان کا دور عدل و انصاف، امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔

🤔 غور و فکر کے پہلو

کیا ہم حضرت عیسیٰ کے دور کے لیے تیار ہیں؟

حضرت عیسیٰ کا دور عدل و انصاف، امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔ کیا ہم اس دور کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنے دلوں سے کینہ، حسد اور بغض کو نکال چکے ہیں؟

حضرت عیسیٰ کے نزول سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

حضرت عیسیٰ کا نزول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جب انسانیت اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ بھیج دیتا ہے۔

ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور کے لیے کیسے تیار ہونا چاہیے؟

  • ایمان کو مضبوط کریں: اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کو مضبوط کریں۔
  • نیک اعمال کریں: زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں تاکہ حضرت عیسیٰ کے دور میں ان کا ثواب مل سکے۔
  • بدعات سے بچیں: ہر قسم کی بدعت سے بچیں اور سنت کی پیروی کریں۔
  • دعا کریں: اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور میں شامل فرمائے۔
  • دجال کے فتنے سے بچیں: دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورۃ الکہف کی تلاوت کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور کو پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس دور میں نیک اعمال کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

#حضرت_عیسیٰ #دور_حکومت #قیامت_کی_نشانیاں #عدل #علامات_کبریٰ #تفاسیر #احادیث #ائمہ_اربہ
Uzair Hameed - بلاگ لوورز کے بانی

Uzair Hameed

بلاگ لوورز کے بانی اور مصنف۔ دینی معلومات، اسلامی تاریخ اور قیامت کی نشانیوں پر تحقیق اور تحریر۔ مقصد: علم اور آگاہی کو عام کرنا۔

ہماری کیٹگریز