فہرست مضامین
- تعارف - بنی اسرائیل کی روش اور عرب کی جہالت
- اسلام سے پہلے عرب کی حالت
- عرب قبائل کی برائیاں
- آخری نبی ﷺ کی بعثت اور قیامت کی پہلی نشانی
- آپ ﷺ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان فاصلہ
- حضرت عیسیٰ اور آپ ﷺ کے دور کے معجزات
- کتب احادیث کے مطابق بعثت نبوی
- آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا قیامت تک
- نبی ﷺ اور قیامت کا قرب
- غور و فکر کے پہلو
- اختتامیہ - امت کے لیے پیغام
تعارف - بنی اسرائیل کی روش اور عرب کی جہالت
محترم قارئین کرام! بنی اسرائیل ہمیشہ ہی اپنے نبیوں کو قتل کرتا آیا ہے اپنی عادت کے پیش نظر یہی روایت جب انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ برتنا چاہی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر اُٹھا لیا اور عیسائیت میں رفتہ رفتہ ہدایت کی روشنی دم توڑنے لگی۔ تو دین کے ٹھیکداروں نے شرعی تعلیم کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
حق بات کو چھپانا، جھوٹی گواہی دینا، شراب پینا، زنا، جوا غرض ہر اس کام سے منع کرنے کے باوجود بھی انھوں حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا تو نتیجہ صرف اور صرف گمراہی ہی تھا۔
ہوسکتا ہے اللہ پاک نے انسانوں کی بھلائی کے لئے کئی ہدایت دینے والے بھیجے ہو "واللہ اعلم" لیکن انسان تھے کہ مسلسل خرافات اور گمراہی کا شکار تھے۔ اگر ہم اسلام سے پہلے عرب کی سرسری حالت کا جائزہ لیں تو اس سے ہمیں اتنا اندازہ تو ضرور ہو گا کہ یہ لوگ کس قدر گمراہ ہوچکے تھے ایسا لگتا ہے کہ کبھی ان کے درمیان کوئی سمجھانے والا آیا ہی نہ ہو۔
اسلام سے پہلے عرب کی حالت
عرب قبائل میں رہتے تھے ان کی معاشرتی، معاشی، مذہبی، اخلاقی طرز زندگی سے ایسا لگتا ہے جیسے اقدار ان کےپاس چھو کر بھی نہیں گزرے تھے۔ حالانکہ اسی سرزمین سےکئی اچھے ادب سے دلچسپی رکھنے لوگ بھی پیدا ہوئے۔ لیکن شاید ان کے کلام میں اتنا دم نہیں تھا کہ وہ لوگوں کے طرز روایات تبدیل کر سکتے۔
یہ قبائل چھوٹی چھوٹی وجوہات کی بنا پر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرتے تھے اور کئی کئی سال تک رنجشیں اور لڑائیاں جاری و ساری رہتی ان سب کے باوجود بھی بت پرستی، بدعنوانی، وسوسے، توہمات پرستی، وحشی پن، اپنے عروج پر تھا۔
عرب قبائل کی برائیاں
ایک عورت کئی مردوں کے نکاح میں ہوتی اور مردوں کی کئی کئی عورتیں ہونے کے باوجود بھی عرب میں زنا کا زوروشور تھا۔ سوتیلی مائیں اپنے سوتیلوں سے نہ صرف یہ کہ شادی کرسکتی تھی بلکہ بھائی بہنوں میں شدی کا رواج عام تھا۔ مردوں اور عورتوں کو پوری آزادی حاصل تھی۔ اپنے آقاوں/ خداوں کو خوش کرنے کے لئے انسانوں کی قربانی عام تھی۔
باپ اپنے بچوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی بناء پر قتل کیا کرتے تھے، غربت یا ہٹ دھرمی کے عوض خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک عام تھا انہیں ہمیشہ ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اور عورتوں کو معاشرے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی وراثت میں اس کا کوئی حق ہوتا۔ لڑکی کی پیدائش کو لعنت سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ دفن کیا جارہا تھا، غلامی بدترین شکل میں مسلسل پروان چڑھ رہی تھی کیونکہ مالک کو پورا حق حاصل تھا چاہیے وہ اسے موت کے گھاٹ ہی کیوں نہ اتار دے۔
آخری نبی ﷺ کی بعثت اور قیامت کی پہلی نشانی
ان سب برائیوں کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اللہ پاک نے ساڑھے چھ سو سال بعد یعنی حضرت عیسیٰؑ کے بعد آخری نبی حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین کو ان لوگوں میں معبوث فرمایا۔ اور قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے رہنمابنا کر بھیجا۔ نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا، قرآنی تعلیمات مکمل ہوگئی، اور دین اسلام کو اللہ نے چن لیا اور مکمل کردیا۔
قیامت تک شریعت محمدی پر ہی چلنا ہے۔ اطاعت نبی ہی دراصل اطاعت اللہ ہے جو بھی اس سے منہ موڑتا ہے وہ واضع گمراہی میں ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت ہی قیامت صغریٰ کی پہلی نشانی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو آگاہ فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت قربِ قیامت کی دلیل اور نشانی ہے۔ یہ قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی ہے۔
⏳ آپ ﷺ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان فاصلہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو پہنچایا اور ان کو تورات اور انجیل عطا کی اور ہم نے ان کے دلوں میں نرمی اور رحمت ڈال دی۔" (سورۃ الحدید، آیت 27)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان تقریباً **600 سال** کا عرصہ ہے۔ یہ وہ طویل فاصلہ ہے جس میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس دور کو "فترت" کا دور کہا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بے شک میری اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا۔" (صحیح بخاری)
یہ طویل فاصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ایک طویل عرصے تک اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کر سکیں اور پھر آخری نبی ﷺ کی بعثت کے ذریعے انہیں ہدایت عطا کی۔
اس فاصلے میں عیسائیت میں تحریف ہوئی، یہودیت اپنی اصلی شکل سے دور ہوگئی، اور عرب میں شرک و جہالت کی انتہا ہوگئی۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسانیت ایک آخری اور کامل نبی کی محتاج ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس طویل فاصلے کے بعد آخری نبی ﷺ کو بھیجا تاکہ وہ تمام پچھلی شریعتوں کو منسوخ کر کے ایک کامل اور ہمیشہ کے لیے شریعت عطا کریں۔
🌟 حضرت عیسیٰ اور آپ ﷺ کے دور کے معجزات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو بہت سے معجزات عطا کیے، جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے: "اور میں مردہ کو زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے، اور میں اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہوں اللہ کے حکم سے۔" (سورۃ آل عمران، آیت 49)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو درج ذیل معجزات عطا کیے گئے تھے:
- مردہ کو زندہ کرنا: اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کیا۔
- اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینا: اللہ کے حکم سے بیماریوں کو شفا دی۔
- مٹی سے پرندہ بنانا: مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں روح پھونک دی۔
- غیب کی خبریں دینا: لوگوں کو ان کے چھپے ہوئے معاملات بتانا۔
- آسمان سے خوانچہ نازل ہونا: اللہ کے حکم سے آسمان سے کھانا نازل ہوا۔
حضرت محمد ﷺ کے معجزات
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سب سے بڑا معجزہ قرآن عطا کیا۔ قرآن مجید میں فرمایا: "اور اگر تم اس میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔" (سورۃ البقرہ، آیت 23)
آپ ﷺ کو بے شمار معجزات عطا کیے گئے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
- قرآن مجید: سب سے بڑا اور ہمیشہ کا معجزہ۔
- شق القمر: چاند کو دو ٹکڑے کرنا۔
- اسراء و معراج: راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں کا سفر۔
- پانی کا چشمہ: انگلیوں سے پانی کا بہنا۔
- غیب کی خبریں: مستقبل کے بارے میں پیشین گوئیاں۔
- دعا کی قبولیت: آپ ﷺ کی دعائیں فوری طور پر قبول ہوتی تھیں۔
حضرت عیسیٰ کے معجزات عارضی تھے اور صرف ان کے دور تک محدود، جبکہ آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔
📚 کتب احادیث کے مطابق بعثت نبوی
صحیح بخاری کی روایات
صحیح بخاری (حدیث نمبر 3342):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مجھے قیامت کے قریب بھیجا گیا ہے اور میرے اور قیامت کے درمیان ان دو انگلیوں کی طرح فاصلہ ہے۔" (انگلی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)
اس حدیث سے واضح ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت قیامت کے بہت قریب ہے۔ یہ قیامت صغریٰ کی پہلی نشانی ہے۔
صحیح مسلم کی روایات
صحیح مسلم (حدیث نمبر 2950):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'بے شک میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔'
یہ حدیث خاتم النبیین ہونے کی دلیل ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔
سنن ابی داود کی روایت
سنن ابی داود (حدیث نمبر 4356):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'میری مثال اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور اسے خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور کہتے: کاش یہ اینٹ بھی لگا دی جاتی۔ تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔'
اس حدیث سے واضح ہے کہ آپ ﷺ نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ ہیں۔ آپ کے بعد عمارت مکمل ہوگئی اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔
🔒 آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا قیامت تک
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "مگر (اے محمدﷺ) وہ اللہ کا رسول ہے اور خاتم النبیین ہے۔" (سورۃ الاحزاب، آیت 40)
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور جس نے بھی آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا، وہ کاذب اور گمراہ ہے۔
خبردار! جو کوئی آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ جھوٹا اور کاذب ہوگا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔
نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا: "میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں کوئی امتی نبی نہیں ہوگا۔" (مسند احمد)
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسے رد کریں اور اس کی تردید کریں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر دین کو مکمل کیا۔ اب قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کی شریعت ہی قابل عمل ہے۔
نبی ﷺ اور قیامت کا قرب
ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: "مجھے اور قیامت کو اس طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے جس طرح یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں"۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ: "مجھے قیامت کے آغاز میں بھیجا گیا ہے"۔
علماء کرام فرماتے ہیں: "قیامت کی پہلی نشانی نبی کریم ﷺ کا تشریف لانا ہے کیونکہ آپ ﷺ نبی آخر الزماں ہیں اور آپ ﷺ کے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی آنے والا نہیں ہے"۔
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم آپ ﷺ کی سنت پر عمل کر رہے ہیں؟
جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا اور دین کو مکمل کیا، تو کیا ہم اس مکمل دین پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال رہے ہیں؟
کیا ہم آپ ﷺ کی محبت کو سمجھتے ہیں؟
آپ ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جس نے آپ ﷺ سے محبت نہیں کی، اس کا ایمان مکمل نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔" (صحیح بخاری)
کیا ہم آپ ﷺ کے بعد آنے والے جھوٹے نبیوں سے بچ رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "میرے بعد بہت سے جھوٹے نبی آئیں گے۔" (صحیح بخاری) کیا ہم ان جھوٹے نبیوں کے دھوکے سے بچ رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے ایمان کی حفاظت کر رہے ہیں؟
ہم قیامت کے لیے کیسے تیار ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے دو انگلیاں۔" اس کا مطلب ہے کہ قیامت بہت قریب ہے۔ کیا ہم قیامت کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی ہے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے، آپ ﷺ کی محبت رکھنے، اور قیامت کے لیے تیار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
اختتامیہ - امت کے لیے پیغام
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو جہالت، شرک اور برائیوں سے نکال کر ہدایت اور ایمان کی راہ دکھائی۔ قیامت تک کے لیے یہی راہ ہدایت ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ آپ ﷺ کا تشریف لانا قیامت کی پہلی نشانی ہے، اور اس کے بعد آنے والی نشانیوں کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔
آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک قائم رہے گی اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ آپ ﷺ کی اطاعت کرے اور آپ ﷺ کی سنت کو زندہ رکھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی کامل اتباع کرنے، آپ ﷺ کی سنت کو زندہ رکھنے، اور قیامت کے دن آپ ﷺ کے ساتھ محشور ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!