تعارف

دوستو! اپنے سابقہ آرٹیکل "لوگوں کے دلوں سے شہر مدینہ میں بسنے کی تڑپ کیوں دم توڑ جائے گی؟" سے آگے کی مزید نشانیوں میں فرمایا گیا کہ قرب قیامت پہاڑ اپنی جگہ سے کھسک جائیں گے۔ یوں تو ایک ایسی نشانی ہے جو دل دہلا دینے والی ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے ہر ایک نشانی گزری نشانی سے کہیں زیادہ شدت اور ہولناکی کی طرف اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔

خبردار! قیامت کی نشانیوں میں سے ایک پہاڑوں کا اپنی جگہ سے کھسک جانا ہے۔

قرآنی آیات میں پہاڑوں کا ذکر

جیسا کہ جامع ترمذی کی روایت ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ سورۃ التکویر، سورۃ الانشقاق اور سورۃ الانفطار پڑھ لے۔"

اگر سورۃ التکویر کا ایک نظر جائزہ لیں تو قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے بہت واضح پیغام دیا ہے جس میں فرمایا گیا کہ جب سورج لپیٹ دیا جائے گا، اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے، اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے، اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، اور جب وحشی جانور اکٹھے کر دیے جائیں گے، اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا، بوجہ کس گناہ کے وہ ماری گئی، اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے اور جب آسمان اس کی کھال اتار دیا جائے گا اور جب جہنم بھرکا دیا جائے گا اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔

اللہ رب العزت نے روئے زمین پر پہاڑوں کو انتہائی ٹھوس اور مضبوط شکل میں پیدا فرمایا ہے۔

نبوی پیشنگوئیاں

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت قائم نہ ہو گی جبتک کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں اور تم ایسے عظیم حوادث و واقعات کا مشاہدہ نہ کر لو جو تم نے اس سے پہلے نہ دیکھے ہوں۔"

اسی طرح سورۃ الانفطار میں بھی کچھ اسی طرح کے اشارے فرمائے گئے ہیں۔ جیسا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا، اور جب ستارے بکھر جائیں گے، اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے، اور جب قبریں کھول دی جائیں گی، جان لے گا ہر نفس جو اس نے آگے بھیجا اور اس نے پیچھے چھوڑا، اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے تیرے رب کے بارے میں وہ جس نے پیدا کیا تجھے پھر اس نے درست کیا تجھے پھر اس نے برابر کیا تجھے، جس صورت میں جو اس نے چاہا، اس نے جوڑ دی تجھے، ہرگز نہیں بلکہ تم جھٹلاتے ہو بدلے کے دن کو اور بے شک تم پر یقینانگراں نہیں جو معزز لکھنے والے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔

اللہ ہمیں ان عظیم حوادث سے بچائے اور ہمارے ایمان کو مضبوط رکھے۔

تفاسیر کی روشنی میں پہاڑوں کا زوال

مفسرین کرام نے پہاڑوں کے زوال کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا:

"پہاڑوں کا زوال قیامت کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو حکم دے گا اور وہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔"

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہلنا اور کھسکنا اس بات کی دلیل ہے کہ زمین کی طاقت اور مضبوطی ختم ہو جائے گی۔"

علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے "روح المعانی" میں فرمایا:

"پہاڑوں کا زوال تین مراحل میں ہوگا: پہلے وہ لرزنا شروع ہوں گے، پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، اور آخر میں وہ بھوسے کی طرح اڑ جائیں گے۔"

ائمہ اربعہ کے احکامات

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک پہاڑوں کا زوال قیامت کی علامت ہے اور اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا پہاڑوں کو حکم دے گا اور وہ اپنی جگہ سے کھسک جائیں گے۔

امام مالک رحمہ اللہ

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پہاڑوں کا زوال اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔ انہوں نے لوگوں کو اس پر ایمان رکھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی تلقین کی۔

امام شافعی رحمہ اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ پہاڑوں کا اپنی جگہ سے کھسکنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نشانی پر غور کرنا چاہیے اور اللہ سے ڈرنا چاہیے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پہاڑوں کا زوال قیامت کے قریب آنے کی سب سے بڑی علامات میں سے ہے۔ انہوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور اس پر ایمان رکھنے کو ضروری قرار دیا۔

تاریخی پس منظر

تاریخ میں پہاڑوں کے زوال کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ اگرچہ قیامت کا زوال حتمی اور مکمل ہوگا، لیکن تاریخ میں چھوٹے پیمانے پر پہاڑوں کے کھسکنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

قوم عاد کا انجام

قوم عاد کو اللہ نے تباہ کر دیا اور ان کے پہاڑوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جو پہاڑوں کے زوال کی مثال ہے۔

قوم ثمود کا انجام

قوم ثمود کو پہاڑوں میں بسایا گیا تھا، لیکن اللہ کے عذاب نے انہیں تباہ کر دیا اور پہاڑوں کو جھنجھوڑ دیا۔

یونانی اور رومی تہذیبوں میں زلزلے

قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں بھی زلزلوں کے باعث پہاڑوں کے کھسکنے کے واقعات ملتے ہیں۔ یہ واقعات اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

پہاڑوں کے زوال کی صورتیں

تفسیر ابن ابی حاتم میں ان سورتوں کا کچھ اس طرح نقشہ کھینچا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ قیامت سے پہلے کچھ واقعات رونما ہوں گے لوگ اپنے کاموں میں بہت زیادہ مصروف ہوں گے اچانک سورج کی روشنی ماند پڑنے لگے گی اور پھر ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے۔ پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور پھر کیا انسان، کیا جنات اور کیا جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، بدحواسی اور گھبراہٹ کا یہ عالم ہوگا کہ جو جانور انسانوں سے دور بھاگتے تھے وہ سب انسانوں کے پاس آ جائیں گے، حاملہ اونٹنی یوں کہ کوئی خبر گیری کرنے والا نہ ہوگا۔

پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا یا ختم ہونا یا تو بالکل حقیقی طور پر ہوگا یا وہ اللہ کے حکم سے زمین بوس ہو جائیں گے یا پھر اللہ کے حکم سے زلزلوں کی کثرت سے ختم ہو جائیں گے یا پھر بجلیوں کے باعث ممکن ہو سکے گا – یہ اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہی بہتر جانتی ہے۔

پہاڑوں کے زوال کی تیسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہاڑوں کے پتھر کثرت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے اور چٹانیں اپنی جگہ چھوڑ کر زمین بوس ہو جائیں۔

روزمرہ کے واقعات اور عرب میں تبدیلیاں

آج کے دور میں پہاڑوں کی حالت پر نظر ڈالیں تو ہمیں کئی اہم تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک میں پہاڑوں کو کاٹ کر شہر بنائے جا رہے ہیں۔

سعودی عرب میں نئی ریاض

سعودی عرب میں نئی ریاض شہر کی تعمیر کے لیے پہاڑی علاقوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی ایک عملی مثال ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے کھسک رہے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں توسیع

مکہ مکرمہ میں حرم کی توسیع اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے پہاڑی علاقوں کو کاٹا گیا ہے۔ یہ پہاڑوں کے زوال کی ایک زندہ مثال ہے۔

نیوم سٹی پروجیکٹ

نیوم سٹی پروجیکٹ میں پہاڑوں کو کاٹ کر شہر بنائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک جدید ترین منصوبہ ہے جو پہاڑوں کے زوال کی علامت ہے۔

عرب ممالک میں پہاڑوں کو کاٹ کر شہر بنانے کا عمل قیامت کی نشانیوں کی تکمیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

زلزلوں کی کثرت

عرب ممالک میں حالیہ برسوں میں زلزلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ زلزلے پہاڑوں کو کھسکانے کا باعث بن رہے ہیں۔

پہاڑوں کے کھسکنے کے فوائد و نقصانات

نقصانات

  • انسانی جانوں کا نقصان: پہاڑوں کے کھسکنے سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوگا۔
  • معیشت کی تباہی: پہاڑوں کے کھسکنے سے معیشت تباہ ہو جائے گی اور لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔
  • نقل و حمل کی بندش: پہاڑوں کے کھسکنے سے راستے بند ہو جائیں گے اور نقل و حمل کا نظام تباہ ہو جائے گا۔
  • قدرتی وسائل کا خاتمہ: پہاڑوں کے کھسکنے سے معدنی ذخائر تباہ ہو جائیں گے اور قدرتی وسائل ختم ہو جائیں گے۔

فوائد

  • زمین کا وسعت: پہاڑوں کے کھسکنے سے زمین کا رقبہ بڑھ جائے گا اور مزید زراعت ممکن ہوگی۔
  • نئی دریاؤں کا بننا: پہاڑوں کے کھسکنے سے نئی ندیاں اور دریاؤں کا وجود ممکن ہوگا۔
  • نئی آبادیوں کا قیام: پہاڑوں کے کھسکنے سے نئی آبادیوں کا قیام ممکن ہوگا۔

غور و فکر کے پہلو

1. کیا پہاڑوں کا زوال حقیقی ہے؟

جی ہاں، پہاڑوں کا زوال ایک حقیقت ہے جو قرآن اور حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ یہ قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔

2. کیا انسان پہاڑوں کو کھسکا سکتا ہے؟

انسان پہاڑوں کو کاٹ سکتا ہے اور انہیں کم کر سکتا ہے، لیکن مکمل طور پر کھسکانا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

3. کیا پہاڑوں کا زوال بغیر کسی نشانی کے ہوگا؟

نہیں، پہاڑوں کے زوال سے پہلے زلزلے، آسمانی بجلیاں اور دیگر نشانیاں ظاہر ہوں گی۔

4. کیا پہاڑوں کا زوال اچانک ہوگا؟

ہاں، پہاڑوں کا زوال اچانک ہوگا، جیسے قرآن میں فرمایا گیا ہے: "اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔"

خلاصہ

پہاڑوں کا اپنی جگہ سے کھسک جانا قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی واضح پیشنگوئیاں موجود ہیں۔ آج عرب ممالک میں پہاڑوں کو کاٹ کر شہر بنانے کا عمل اس نشانی کی تکمیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہم سب کی مغفرت فرمائیں اور نیک اعمال کرنے کی ہدایت فرمائیں۔ آمین