فہرست مضامین
🌅 تعارف
دوستو! اللہ رب العزت نے جس قدر میراث کی منصفانہ تقسیم اور حقوق العباد کے بارے میں جگہ جگہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے، قربان جائیں اللہ کے اس عدل و انصاف پر کہ جس میں کسی بھی انسان کے ساتھ زیادتی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہی قوانین اور اللہ کے اس پیغام کو اللہ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ نے انسانیت تک عملی طور پر کر کے پہنچایا۔ تاکہ لوگ گمراہی اور انتشار کا شکار نہ ہوں۔
قیامت پر ایمان دینِ اسلام کا ناصرف اہم رکن ہے بلکہ بہت ہی اہم ترین موضوع بھی ہے۔ جب ہم اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے قوانین اور حدود کی پامالی کر کے خود کی تسکین حاصل کرنے میں ساری توانائیاں صرف کرنے میں لگائیں گے تو محض تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔ یہ بات جتنی جلد ہم سمجھ سکیں گے اتنی ہی ہماری زندگی کی تکالیف کم ہو سکیں گی۔
بھلا کبھی کسی کا گلا کاٹ کر یا میراث میں سے حق تلفی کر کے کسی کو سکون ملا ہے، یقیناً نہیں۔ وقتی طور پر آپ کسی کا حق تلفی کر کے سکون حاصل کر لیں گے لیکن وہ دیرپا نہیں ہو گا بلکہ جزوی یا وقتی ہو گا۔ لیکن اس سے معاشرے پر کیا اثر ہو گا ذرا ایک نظر اس پہلو پر ڈالتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں۔
📖 قرآن مجید کے ارشادات
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں میراث، حقوق العباد اور عدل و انصاف کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی ہیں۔ ان ہدایات کو نظر انداز کرنے والے معاشرے میں فساد اور ناانصافی پھیل جاتی ہے۔
سورۃ النساء - میراث کے احکامات
"مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا، خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"
اللہ رب العزت نے اس آیت میں میراث کو ہر مرد و عورت کا مقررہ حق قرار دیا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کا حق نہیں چھین سکتا۔ اگر کوئی شخص میراث میں کسی کا حق مارتا ہے تو وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور قیامت کے قریب یہی وجہ ہے کہ لوگ میراث کی تقسیم پر خوش نہیں ہوں گے۔
"بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔"
اس آیت میں اللہ نے یتیموں کا مال کھانے والوں کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ یہ حکم صرف یتیموں تک محدود نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی کمزور کا حق مارتا ہے۔ جب لوگ یتیموں، بیواؤں اور کمزوروں کے حقوق مارنے لگیں گے تو معاشرے میں فساد پھیل جائے گا۔
سورۃ المائدہ - عدل و انصاف کا حکم
"اے ایمان والو! تم اللہ کے لیے راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کرنے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر حال میں انصاف کریں، چاہے وہ کسی بھی قوم یا شخص کے خلاف ہو۔ جب لوگ انصاف سے منہ موڑ لیں گے تو معاشرے میں فساد پھیل جائے گا اور قیامت کے قریب یہ فساد انتہا کو پہنچ جائے گا۔
سورۃ البقرہ - ربا اور ناانصافی کا انجام
"اللہ نے سود کو حلال نہیں کیا بلکہ اسے حرام قرار دیا ہے اور تجارت کو حلال کیا ہے۔ جو شخص سود کھاتا ہے وہ اس شخص کی طرح اٹھے گا جسے شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو۔"
جب لوگ سود، رشوت اور ناانصافی کے ذریعے مال جمع کریں گے تو اس مال میں کوئی برکت نہیں ہوگی۔ قیامت کے قریب یہ مال بے کار ہو جائے گا اور لوگ اس پر خوش نہیں ہوں گے۔
📚 احادیث نبوی ﷺ کے فرامین
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو حقوق العباد کی اہمیت اور میراث کی درست تقسیم کے بارے میں بہت سی ہدایات دی ہیں۔ ان ہدایات کو نظر انداز کرنے والے قیامت کے قریب سخت عذاب کا شکار ہوں گے۔
صحیح بخاری کی روایات
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'جو شخص اپنے بھائی کی زمین میں سے ایک بالشت بھی ناحق لے لے گا، تو قیامت کے دن اس کی گردن میں سات زمینوں کا طوق ڈال دیا جائے گا۔'"
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ زمین اور جائیداد کے حقوق بہت اہم ہیں۔ جو شخص کسی کا حق مارتا ہے اسے قیامت کے دن سخت سزا ملے گی۔ قیامت کے قریب جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق ماریں گے تو وہ میراث کی تقسیم پر خوش نہیں ہوں گے۔
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیشک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والا ہے۔'"
نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہے۔ جب لوگ اس حدیث کو بھول جائیں گے تو معاشرے میں فساد پھیل جائے گا اور قیامت قریب آ جائے گی۔
صحیح مسلم کی روایات
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔'"
اگر کوئی شخص اپنے لیے تو مال و دولت پسند کرتا ہے لیکن اپنے بھائی (بہن) کو اس کا حق نہیں دیتا تو وہ کامل ایمان نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے قریب لوگ میراث کی تقسیم پر خوش نہیں ہوں گے۔
سنن ابی داود کی روایت
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'جس شخص نے کسی مسلمان کا ایک درہم بھی ناحق لیا، تو قیامت کے دن اس سے اتنا بدلہ لیا جائے گا جتنا کہ اس نے لیا تھا۔'"
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن ہر ظلم کا بدلہ لیا جائے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کا حق نہ ماریں اور اگر کسی کا حق مارا ہے تو اسے واپس کریں۔
🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات
ائمہ اربعہ نے میراث، حقوق العباد اور عدل و انصاف کے بارے میں تفصیلی احکامات دیے ہیں۔ ان کے اقوال ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
امام ابو حنیفہ کا موقف
امام ابو حنیفہ نے اس بات پر زور دیا کہ میراث میں عورتوں کے حقوق کو پامال نہ کیا جائے۔ آج کل معاشرے میں یہی مسئلہ سب سے بڑا ہے جس کی وجہ سے خواتین اپنے حقوق سے محروم ہیں اور قیامت کے قریب یہ مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔
امام مالک کا بیان
امام مالک نے اس بات کو واضح کیا کہ میراث میں کسی کا حق مارنا صرف ایک معاشرتی جرم نہیں بلکہ ایک دینی جرم ہے جس کی سزا آخرت میں ملے گی۔
امام شافعی کا موقف
امام شافعی نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جو لوگ ناانصافی پر خوش ہیں، ان کی خوشی عارضی ہے اور انجام بہت برا ہوگا۔ قیامت کے قریب یہ عارضی خوشیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔
امام احمد بن حنبل کا بیان
ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میراث میں کسی کا حق مارنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوگا۔
⚡ نبوی پیشنگوئیاں
یہ ہمارے معاشرے کی ایک سفاک اور تلخ حقیقت ہے جو دن بدن کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ بڑھنے والے جرائم کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مثلاً اگر معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ نہ ہو گی تو فرقہ واریت پیدا ہو گی جو کہ معاشرتی بحران کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے جو کسی بھی آپسی اختلافات، جھگڑے اور فسادات کی بنیاد ہوتی ہے۔
اجتماعی فسادات، معاشی بحران، روحانیت کی کمی، مجتمع کی بے ترتیبی بھی اسی سلسلے کی کئی بڑی کڑیاں ہیں۔ ذرا ہم پورے دھیان سے سوچیں کہ یہ تو محض دنیا داری ہے جس میں ہم حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے واضح کیا کہ قیامت قریب آنے پر دو بڑی علامات ظاہر ہوں گی: ایک یہ کہ لوگ میراث کی تقسیم پر خوش نہیں ہوں گے اور دوسرے یہ کہ مالِ غنیمت حاصل کرنے پر بھی خوشی نہیں ہوگی۔ یہ دونوں باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ معاشرے میں حرص، لالچ اور ناانصافی بہت بڑھ جائے گی۔
💔 معاشرتی ناانصافیاں
مگر افسوس! آج معاشرے روایات کے برعکس ہم اسے کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے، یا ہماری روحیں کانپتی کہ جگہ جگہ لوگوں کے پلاٹوں اور گھروں پر قبضے ہوتے دکھائی دیتے ہیں وہ لوگ عدل و انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ بھائی بھائی کی زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ بہنوں کو میراث میں کچھ حصہ نہیں دیا جاتا یہ کہہ کر ان کے حصے میں جو میراث آتی تھی اس کے نپول بدل میں ان کی شادی کر دی گئی ہیں لہذا اب میراث میں ان کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔ شادی کے مواقعوں پر خواتین کے لیے جو حق مہر لکھوایا جاتا ہے وہ بھی محض لوگوں کے دکھلاوے کے لیے ہوتا جس کا ذکر صرف اس نکاح نامے تک محدود ہوتا ہے جبکہ عملی طور پر اس کو ادا نہیں کیا جاتا۔ بدنیتی یا سست روی سے کام لیا جاتا ہے یا یہ کہہ کر چپ کر وا دیا جاتا ہے کہ تمھارے حصے کی رقم کاروبار میں لگا دی گئی ہے اس طرح بڑی آسانی سے خواتین اپنے جائز حق سے محروم کر دی جاتی ہیں۔ کوئی خاتون جب اپنے اس حق کا تقاضا کرتی ہے تو محض حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا ہے یا پھر بیہودہ سے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کر کے اسے تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں، طعنہ زنی والزامات کی بارش کی جاتی ہے، لیکن ان سب کے باوجود بھی اس کا حق ادا نہیں کیا جاتا۔
🌍 آج کے دور کا تناظر
آئیے اب ہم اس آرٹیکل کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں جو کہ قرب قیامت کی نشانی بتائی گئی ہے۔ کہ لوگوں کو مالِ غنیمت حاصل کرنے کی خوشی نہ ہو گی اور میراث کی تقسیم رک جائے گی۔ اہل علم کہتے ہیں کہ یہ دونوں علامتیں آخری زمانے میں عین اس وقت واقع ہوں گی جب انسانیت کا قتلِ عام ہونا شروع ہو جائے گا، اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہونے والی لڑائیاں بہت زیادہ شدت اختیار کر جائیں گی۔ یعنی کثرت سے لڑائیاں لڑی جائیں گی۔ جیسے میں اپنے سابقہ آرٹیکل "امام مہدی سے قبل کن جماعتوں میں زبردست جنگ ہوگی" میں تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں۔
اس آرٹیکل کا مطالعہ کرنے کے بعد اس دی گئی حدیث کی وضاحت مزید واضح ہو جائے گی۔ کہ لڑی جانے والی جنگ کس قدر ہولناک ہو گی کہ اگر ایک شخص کے سو بیٹے جنگ لیڈیں گے تو نوے قتل ہو جائیں گے اور محض ایک بیٹا باقی بچے گا۔ اب اس منظر میں میراث کی تقسیم کن مابین ہو سکے گی اور جو باقی بچ جائیں گے وہ مالِ غنیمت لے کر بھی کہاں خرچ کریں گے۔ واللہ اعلم
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم اپنے حقوق ادا کر رہے ہیں؟
ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنے رشتہ داروں، خاص طور پر خواتین اور کمزوروں کے حقوق ادا کیے ہیں؟ کیا ہم نے کسی کا حق مارا ہے؟ اگر ہاں، تو ہمیں فوراً اسے واپس کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے قریب یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
معاشرتی ناانصافیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
معاشرتی ناانصافیوں کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں۔ جب ہم عدل و انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو معاشرہ بہتر ہوگا۔ قرآن، حدیث اور ائمہ کرام کی تعلیمات ہمیں راستہ دکھاتی ہیں۔
قیامت کے قریب مال کی کثرت کیوں ہوگی؟
اس حدیث کے مطابق قیامت کے قریب مال کی کثرت ہوگی لیکن لوگ اس سے خوش نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی حرص اور لالچ کی وجہ سے سکون حاصل نہیں کر پائیں گے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق ماریں گے تو کوئی بھی کسی پر بھروسہ نہیں کر سکے گا۔
🤲 خلاصہ
اور ایک وقت یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا گیا ہے کہ لوگوں کا حق تم ادا کرو، یتیموں کا مال مت کھاؤ، زمین میں عدل و انصاف قائم رکھو، آپس میں اچھا معاشرت قائم کرو، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا خاص خیال رکھو۔ لیکن مردہ دلی، سفاکی، ظلم و جبر، گمراہی کے اندھیروں میں ٹمٹماتا عدل کا بول بالا محض امیروں کو خوش کرنے اور غریبوں کا حق مارنے کے لیے قائم دائم ہے۔ جس انصاف سے آج کے لوگ خوش نہیں ہیں تو آنے والے کل کے لوگ کیسے خوش ہوں گے۔ سچ بات تو یہ کہ یہ محض دھوکے کا سامان ہے۔
قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور ائمہ کرام کی تعلیمات ہمیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ میراث کی درست تقسیم اور حقوق العباد کی ادائیگی بہت ضروری ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات کو نظر انداز کریں گے تو معاشرے میں فساد پھیل جائے گا اور قیامت قریب آ جائے گی۔ قیامت کے قریب لوگ میراث کی تقسیم اور مالِ غنیمت پر خوش نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے دلوں میں حرص اور لالچ ہوگی اور وہ ایک دوسرے کے حقوق ماریں گے۔