⚠️ خبردار! تیجہ منانا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)
"تیجہ منانا" کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے تیسرے دن بعد ایک مجلس یا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے، جس میں مرنے والے کی مغفرت کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور عمومی طور پر کھانا وغیرہ بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں بعض علاقوں میں خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عام ہے۔
تیجہ منانا کیا ہے؟
"تیجہ منانا" کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے تیسرے دن بعد ایک مجلس یا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے، جس میں مرنے والے کی مغفرت کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور عمومی طور پر کھانا وغیرہ بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں بعض علاقوں میں خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عام ہے۔
بدعت کا مفہوم
بدعت کا لغوی مطلب ہے "نئی چیز کا ایجاد کرنا"۔ اسلامی اصطلاح میں بدعت اس عمل کو کہا جاتا ہے جو قرآن اور سنت کی روشنی میں ثابت نہ ہو، اور جو دین میں کسی اضافے کی نیت سے کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔
اس لحاظ سے تیجہ منانا اگرچہ نیک نیت سے کیا جاتا ہے، لیکن اس کا کوئی ثبوت قرآن اور سنت میں نہیں ملتا، اس لیے اکثر علماء اسے بدعت قرار دیتے ہیں۔
علماء کا موقف
بعض علما اور دینی حلقے تیجہ منانے کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ عمل سنت کے خلاف ہے اور معاشرے میں فضول خرچی کو فروغ دیتا ہے۔ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تیجہ میں کھانے کا اہتمام مولوی حضرات کی اپنی سہولتیں یا منافع کا ذریعہ بن چکا ہے۔ تاہم، یہ الزام عمومی نہیں بلکہ مخصوص مواقع اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
پاکستان میں تیجہ منانے کا کاروبار
پاکستان میں تیجہ منانے کی روایت بعض مقامات پر منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہوٹلوں، کیٹرنگ سروسز، اور دیگر متعلقہ خدمات اس موقع پر پیسہ کمانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد یا گروہ مرنے والوں کے اہل خانہ پر تیجہ منانے کا دباؤ ڈالتے ہیں تاکہ ان سے مالی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
⚠️ اہم انتباہ: دباؤ ڈالنے کے علاوہ یہ اہل خانہ کو ڈراتے ہیں کہ اگر یہ تیجہ کی رسم نہ کی گئی تو اس کی بخشش نہیں ہو گی، تو جتنا زیادہ ہو سکے دل کھول کر لوگوں کو کھانا کھلائیں۔ ایسے ایسے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں کہ گویا مرنے سے ڈر لگتا ہے۔
تیجہ منانے کی تاریخی حیثیت
تاریخی اعتبار سے "تیجہ منانے" کا عمل اسلامی روایات کا حصہ نہیں ہے۔ اس کی ابتدا شاید دیگر قدیم مذہبی رسومات سے ہوئی ہو، جو وقت کے ساتھ مسلمانوں کے معاشرتی نظام میں شامل ہو گئیں۔ اس عمل کا کوئی خاص فرقہ یا دین بنیاد نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک علاقائی روایت کے طور پر سامنے آیا۔
دور جاہلیت میں
دور جاہلیت میں اس مخصوص طریقے کی کوئی مثال موجود نہیں، تاہم مرنے والوں کے لیے مخصوص رسومات کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اسلام نے ان رسومات کی جگہ نمازِ جنازہ اور دعا کا طریقہ سکھایا، اور قرآن و سنت میں کسی مخصوص دن پر اجتماع اور کھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
دیگر مذاہب میں
دیگر مذاہب میں بھی مرنے والوں کے لیے مخصوص دنوں پر رسومات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جیسے کہ عیسائیت میں "All Saints' Day" یا ہندو مت میں "شرادھ" کی رسومات۔ ان رسومات کا مقصد مرنے والے کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور اُن کے اعمال کو یاد کرنا ہوتا ہے۔
زرتشت مذہب میں
زرتشت مذہب میں بھی مرنے والوں کے لیے مخصوص رسومات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن کا مقصد روح کی پاکیزگی اور مغفرت کے لیے دعا کرنا ہوتا ہے۔ زرتشتی رسومات میں مردوں کو یاد رکھنے اور ان کے لیے نیکیاں کرنے کا عمل موجود ہے، جو کچھ حد تک تیجہ منانے کی روایت سے ملتا جلتا ہے۔
اسلام میں تیجہ منانے کا تصور
اسلام میں تیجہ منانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے وفات کے بعد کے دنوں میں اجتماع اور کھانے کی رسومات سے منع کیا ہے۔ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم نوحہ کرنے اور میت کے بعد جمع ہو کر کھانے کو رسم سمجھتے تھے"۔
📜 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے"۔ (صحیح مسلم)
صحابہ کرام کے دور میں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں تیجہ منانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ صحابہ کرام وفات کے بعد صرف دعائیں اور صدقہ جاریہ کا اہتمام کرتے تھے، لیکن تیسرے دن بعد اجتماع اور کھانے کا اہتمام جیسی کوئی روایت نہیں ملتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل بعد میں ایجاد کیا گیا ہے۔
ائمہ کرام کا موقف
ائمہ کرام میں سے امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل سمیت تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دین میں نئی رسومات ایجاد کرنا، چاہے وہ نیک نیتی سے ہو، ممنوع ہے۔ تیجہ منانے کو اکثر علماء نے بدعت قرار دیا ہے، اور اس سے بچنے کی ہدایت دی ہے۔
پاکستان میں تیجہ منانے کے اثرات
پاکستان میں تیجہ منانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس کے معاشرتی اثرات منفی ہو سکتے ہیں۔ اس میں فضول خرچی، دکھاوا، اور مال کی بربادی جیسے عناصر شامل ہیں۔ تیجہ منانے سے بعض اوقات غریب گھرانے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان پر سماجی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ عمل اصل اسلامی تعلیمات سے بھی دور کرتا ہے۔
📖 تفاسیر کی روشنی میں تیجہ منانے کا حکم
تفسیر ابن کثیر
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "دین اسلام مکمل ہے، کسی کو اس میں اضافہ کرنے کا حق نہیں۔ جو شخص دین میں کوئی نئی بات ایجاد کرتا ہے، وہ گویا یہ کہہ رہا ہے کہ دین نامکمل تھا۔"
امام ابن کثیر کے مطابق تیجہ منانا جیسی رسومات دین میں اضافہ ہیں۔ جب اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو پھر کسی کو اس میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
تفسیر القرطبی
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص دین میں ایسی چیز داخل کرتا ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے نہیں دیا، وہ گویا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔"
اس تفسیر کے مطابق تیجہ منانا ایک ایسا عمل ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہیں دیا، اس لیے یہ نافرمانی ہے۔
تفسیر الجلالین
تفسیر جلالین میں ہے: "اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا ہے، اب کسی کو اس میں کمی یا بیشی کرنے کا حق نہیں۔"
یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دین مکمل ہے اور اس میں کسی اضافے کی گنجائش نہیں۔ تیجہ منانا دین میں اضافہ ہے۔
❓ کیا دین مکمل نہیں ہے جو یہ مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
کیا واقعی دین مکمل نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنا دین نامکمل چھوڑ دیا تھا کہ لوگ آکر اسے مکمل کر رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔" (سورۃ المائدہ، آیت 3)
📌 غور طلب بات: جب اللہ نے خود فرمایا کہ اس نے دین مکمل کر دیا ہے، تو پھر یہ لوگ کون ہیں جو آ کر تیجہ، چالیسواں، گیارہویں اور دیگر رسومات ایجاد کر کے دین کو "مکمل" کر رہے ہیں؟ کیا اللہ کا کہنا غلط تھا؟ یا یہ لوگ اللہ سے زیادہ سمجھدار ہیں؟
⚠️ انتباہ: جو لوگ دین میں نئی رسومات شامل کرتے ہیں، وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دین نامکمل تھا اور ہم اسے مکمل کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دین مکمل ہے اور کسی کو اس میں اضافہ کرنے کا حق نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے لیے دین کو مکمل کر کے چھوڑ گیا ہوں۔" (صحیح مسلم)
تیجہ منانا، چالیسواں منانا، گیارہویں منانا، اور اس طرح کی دیگر رسومات دراصل دین میں اضافہ ہیں۔ یہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دین نامکمل تھا اور ہم اسے مکمل کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا دین مکمل ہے اور کسی کو اس میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
📚 احادیث کی روشنی میں بدعات کا رد
صحیح بخاری کی روایات
صحیح بخاری (حدیث نمبر 2697):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے جو اس میں سے نہ ہو، وہ مردود ہے۔"
یہ حدیث بدعات کی بنیاد ہے۔ تیجہ منانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس کی کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 7320):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'تمہارے اعمال ہی تمہیں جنت یا دوزخ تک پہنچائیں گے۔' صحابہ نے پوچھا: کیا صرف ہمارے اعمال کی بنا پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔'
اس حدیث سے واضح ہے کہ جنت کا حصول اعمال اور اللہ کی رحمت پر منحصر ہے، نہ کہ کسی تیجہ یا رسم پر۔
صحیح مسلم کی روایات
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1018):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔'
تیجہ منانا ایک بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔
سنن ابی داود
سنن ابی داود (حدیث نمبر 4609):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنایا ہے، اور میری امت کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز پڑھ لے۔'
اس حدیث سے یہ بھی واضح ہے کہ عبادت کے لیے کسی خاص جگہ یا وقت کی ضرورت نہیں، تیجہ جیسی رسومات بھی اس کی خلاف ورزی ہیں۔
⚠️ جہالت کے نقصانات
جہالت کا دین پر اثر
جہالت دین کی پاکیزگی کو تباہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب لوگ اپنے دین کو صحیح طور پر نہیں جانتے تو وہ بدعات اور خرافات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جہالت کی وجہ سے لوگ تیجہ، چالیسواں، گیارہویں جیسی رسومات کو دین سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ جہالت ہی ہے جو لوگوں کو حقیقی اسلام سے دور کرتی ہے۔
جہالت کے معاشرتی نقصانات
- دینی تعلیمات کا زوال: جب لوگ بدعات کو دین سمجھنے لگتے ہیں تو حقیقی اسلامی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں۔
- مال کا ضیاع: لوگ تیجہ اور دیگر رسومات پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرتے ہیں جو کہ ان کا ضیاع ہے۔
- وقت کا ضیاع: لوگ اپنا قیمتی وقت ان رسومات میں ضائع کر دیتے ہیں جو دین کا حصہ نہیں۔
- معاشرتی تقسیم: بدعات فرقہ واریت کو بڑھاتی ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہیں۔
- دین کی بدنامی: جب لوگ ان بدعات کو اسلام کے نام پر کریں گے تو دین کی بدنامی ہوگی۔
جہالت سے بچنے کا طریقہ
جہالت سے بچنے کا واحد راستہ علم حاصل کرنا ہے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، معتبر علماء سے سیکھیں، اور اپنے عقائد کو صحیح طریقے سے سمجھیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" (سنن ابن ماجہ)
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم دین کو صحیح طور پر جانتے ہیں؟
ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے دین کو صحیح طور پر جانتے ہیں؟ کیا ہم قرآن و سنت کو سمجھتے ہیں یا محض روایات کی اندھی تقلید کر رہے ہیں؟
کیا ہم بدعات کا شکار تو نہیں؟
ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم تیجہ، چالیسواں، گیارہویں جیسی رسومات میں حصہ لیتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ بدعات ہیں؟
ہم بدعات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
- قرآن و سنت کا مطالعہ کریں: دین کے صحیح احکامات کو خود سمجھیں۔
- معتبر علماء سے رجوع کریں: کسی بھی عقیدے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت جانچ لیں۔
- بدعات سے دور رہیں: ایسی جگہوں اور اجتماعات سے اجتناب کریں جہاں بدعات کو فروغ دیا جاتا ہو۔
- دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی بدعت سے بچائے۔ آمین!
بدعات سے بچنے کا طریقہ
🕌 بدعات سے بچنے کا طریقہ: ضروری ہے کہ ہم قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔ تیجہ منانے کے بجائے مرنے والوں کے لیے دعا کریں، صدقہ جاریہ کریں، اور قرآن مجید کی تلاوت کریں۔ علماء کی صحبت اختیار کریں جو قرآن اور حدیث کے مطابق رہنمائی کریں۔
بدعت سے بچنے کے لیے عقائد کی تصحیح، قرآن و سنت کا مطالعہ، اور دین کے معتبر علما کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، بدعات سے وابستہ اجتماعات اور رسومات سے دور رہنا، اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور خالص توحید پر عمل کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
اللہ ہمیں بدعات سے بچائے اور سنت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!