فہرست مضامین
- پس منظر
- مساجد کی اہمیت اور ان کا ویران ہونا
- درباروں اور مزاروں کا آباد ہونا
- قرآن و احادیث کے مطابق
- دیگر تفاسیر کے مطابق
- ائمہ کرام کے احکامات
- کیا لوگوں کا اعتماد اللہ کی ذات سے کم ہو رہا ہے؟
- کیا شیاطین اور جھوٹے بابا کامیاب ہو رہے ہیں؟
- مساجد کا ویران ہونا قیامت کے کن اندھیروں کی طرف اشارے کر رہی ہے
- دورِ حاضر میں گمراہی کا شکار
- دین کے ٹھیکداروں کا کردار
- تعلیماتِ اسلام اور اتحاد کی ضرورت
- قیامت کی نشانیاں اور موجودہ حالات
- غور و غوض کے پہلو
- اختتامیہ اور نصیحت
پس منظر
آج کے دور میں ایک عجیب منظر دیکھنے میں آرہا ہے کہ مساجد ویران ہو رہی ہیں، جبکہ درباروں اور مزاروں پر ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا لوگوں کا اعتماد اللہ تعالیٰ کی ذات سے کم ہو رہا ہے؟ کیا شیاطین اور جھوٹے بابا اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ کیا دورِ حاضر میں لوگ گمراہی کا شکار ہو رہے ہیں؟ اور کیا دین کے ٹھیکداروں نے امت کو فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان؟ ان سوالات کے جوابات قرآن و حدیث، ائمہ اربعہ کی فقہی آراء اور قیامت کی نشانیوں کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مساجد کی اہمیت اور ان کا ویران ہونا
مساجد اللہ کے گھر ہیں، جو ایمان والوں کے لیے عبادت، ذکر و اذکار اور علم دین حاصل کرنے کا مرکز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مساجد کی تعمیر اور ان کی آبادی کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے:
نبی کریم ﷺ نے مساجد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "جب تم کسی کو مسجد سے زیادہ بازاروں میں اور اللہ کے ذکر سے زیادہ دنیا کی باتوں میں لگا ہوا دیکھو تو اس پر افسوس کرو۔" مساجد کا ویران ہونا درحقیقت معاشرے میں دینی اقدار کے زوال کی علامت ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مساجد کی تعمیر اور ان کی آبادی کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے اور فرمایا کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ انہوں نے مساجد کو علم و حکمت کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسجد میں علم حاصل کرنا عبادت ہے۔
مساجد کے ویران ہونے کی وجوہات
- دینی تعلیمات سے دوری: جدید تعلیم اور مادہ پرستی نے لوگوں کو دین سے دور کر دیا ہے۔
- نماز کی پابندی نہ کرنا: مساجد میں جمعہ اور دیگر نمازوں کے وقت خالی ہال دیکھے جا سکتے ہیں۔
- دنیاوی مشغولیت: مال و دولت، کاروبار اور تفریحات نے لوگوں کو مصروف کر دیا ہے۔
- علماء کا منفی کردار: بعض علماء نے اپنی ذاتی مفادات کے لیے مساجد کو سیاسی اور فرقہ وارانہ مراکز بنا دیا ہے۔
درباروں اور مزاروں کا آباد ہونا: شرک اور بدعات کا فروغ
درباروں اور مزاروں کا رجحان بڑھنا دراصل شرک اور بدعات کے پھیلاؤ کی علامت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قبروں کی زیارت اور ان پر تعمیرات کرنا بدعت ہے اور اس سے شرک کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگنی چاہیے اور کسی مردہ یا غائب شخصیت سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔
درباروں کی آبادی کی وجوہات
- جھوٹے معجزوں کا پرچار: لوگوں کو جھوٹے کرامات دکھا کر انہیں گمراہ کیا جاتا ہے۔
- لوگوں کی جہالت: دینی تعلیم کی کمی لوگوں کو ان جگہوں کی طرف لے جاتی ہے۔
- دنیاوی فائدے کی خواہش: لوگ اپنی حاجتوں کے لیے ان دروگوں کا سہارا لیتے ہیں۔
- ثقافتی ورثے کا غلط استعمال: بعض لوگ مزارات کو اپنی ثقافتی شناخت سمجھتے ہیں اور انہیں اسلامی تعلیمات کے خلاف فروغ دیتے ہیں۔
قرآن و احادیث کے مطابق
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مساجد کی تعمیر اور ان کی آبادی کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے جبکہ شرک اور بدعات سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
دیگر تفاسیر کے مطابق
مفسرین اور علماء کرام نے مساجد کی ویرانی اور درباروں کی آبادی کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔
ائمہ کرام کے احکامات
ائمہ اربعہ نے مساجد کی اہمیت اور شرک و بدعات سے بچنے کے بارے میں واضح احکامات دیے ہیں۔
کیا لوگوں کا اعتماد اللہ کی ذات سے کم ہو رہا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لیکن آج کل لوگ اللہ پر بھروسہ کرنے کی بجائے جادو، ٹونے ٹوٹکوں اور جھوٹے باباؤں کی طرف بھاگتے ہیں۔ یہ رویہ ایمان کی کمزوری اور اللہ کی ذات سے بے اعتمادی کی واضح علامت ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اللہ کی ذات سے غافل ہو کر دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے اور وہ شرک کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے ہی حاجتیں مانگنی چاہئیں اور کسی مخلوق کو اللہ کا شریک نہیں بنانا چاہیے۔
کیا شیاطین اور جھوٹے بابا کامیاب ہو رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں شیطان کے وعدے کو بیان کیا:
شیطان کا مقصد انسانوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانا ہے۔ جھوٹے بابا اور درویش شیطان کے ایجنٹ بن کر لوگوں کو شرک اور بدعات میں مبتلا کر رہے ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جادو، کہانت اور جھوٹے معجزات کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا اور فرمایا کہ یہ سب شیطان کے کام ہیں جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا کہ وہ ان جھوٹے مدعیانِ کرامت کے پاس جائیں اور ان سے کوئی تعلق رکھیں۔
مساجد کا ویران ہونا قیامت کے کن اندھیروں کی طرف اشارے کر رہی ہے
مساجد کا ویران ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جب مساجد کو صرف ظاہری زیبائش کے لیے بنایا جائے گا اور ان میں عبادت کا روحانی پہلو ختم ہو جائے گا تو یہ قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہے۔
مساجد کا ویران ہونا اور درباروں کا آباد ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امت مسلمہ اپنے دین کی حقیقت سے دور ہو رہی ہے اور وہ شرک و بدعات کی طرف جا رہی ہے۔
دورِ حاضر میں لوگوں کا گمراہی کا شکار ہونا
دینی تعلیم کی کمی، میڈیا کا غلط پرچار، اور علماء کی کمزوری اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ نتیجتاً لوگ صحیح راستہ بھول کر جاہلانہ رسومات میں پھنس رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج کل جھوٹے علماء اور خود ساختہ مفتیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو بڑھا دیا ہے اور لوگوں کو غلط فتاوی دے کر گمراہ کر رہے ہیں۔
دین کے ٹھیکداروں کا کردار
کچھ علماء حق بات چھپاتے ہیں اور حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے دین کو بدل دیتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات پائے گا۔"
ائمہ اربعہ نے ہمیشہ اہلِ علم کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ حق بات کہیں اور کسی بادشاہ یا امیر کے خوف سے دین میں تبدیلی نہ کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ جو عالم اپنے علم پر عمل نہیں کرتا وہ لوگوں کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔
تعلیماتِ اسلام اور اتحاد کی ضرورت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ائمہ اربعہ نے قرآن و سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ امت کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک ہو جائے۔
ائمہ اربعہ کے مابین جو اختلافات تھے وہ فقہی اجتہاد پر مبنی تھے اور انہوں نے کبھی آپس میں دشمنی نہیں رکھی۔ بلکہ انہوں نے ایک دوسرے کی عزت کی اور اپنے شاگردوں کو دوسرے ائمہ کے اقوال کا احترام کرنے کی تلقین کی۔
قیامت کی نشانیاں اور موجودہ حالات
مساجد کی زیبائش اور دلوں کی خرابی، جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ظہور، اور شرک و بدعات کا فروغ قیامت کی نشانیاں ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مساجد کو فخر و مباہات کے لیے نہ بنائیں۔" اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد کی تعمیرات میں عظمت اور شان و شوکت کا اہتمام تو کیا جا رہا ہے مگر ان میں عبادت کا روحانی پہلو ختم ہوتا جا رہا ہے۔
غور و غوض کے پہلو
- کیا ہم مساجد کو ان کا حق دے رہے ہیں؟ کیا ہم مساجد میں عبادت کرتے ہیں اور انہیں آباد رکھتے ہیں؟
- کیا ہم شرک اور بدعات سے بچ رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتے ہیں؟
- کیا ہم علماء کی صحیح رہنمائی حاصل کر رہے ہیں؟ کیا ہم مستند علماء کی پیروی کر رہے ہیں؟
- کیا ہم قیامت کی نشانیوں کو پہچان رہے ہیں؟ کیا ہم ان نشانیوں سے سبق حاصل کر رہے ہیں؟
- کیا ہم اپنی نسل کو صحیح دین کی تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دے رہے ہیں؟
اختتامیہ اور نصیحت
مساجد کے ویران ہونے اور درباروں کے آباد ہونے کی اصل وجہ دین سے دوری، شرک و بدعات کا فروغ اور علماء کی کمزوری ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی طرف لوٹے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرے۔